25 REVISION IN 1973 CONSTITUTION OF PAKISTAN TO 2020 .

 











*(( assalamulikom))

Welcome you are on the knowledge page here all necessary knowledge around the world  will be avaliable  which may can provide alot of help in your all coming exam/ test etc .

آئین پاکستان 1973 میں اب تک کی گئی 25 ترامیم آسان اردو زبان میں اختصار کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں۔


 *پہلی ترمیم 1974* 

آئین پاکستان 1973 کی پہلی ترمیم میں پاکستان کے حدود اربعہ کا دوبارہ تعین کیا گیا.


 *دوسری ترمیم 1974* 

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا.


 *تیسری ترمیم 1975* 

اس ترمیم میں Preventive Detention کی مدت کو بڑھایا گیا۔Preventive Detention کا مطلب ہے کسی ایسے شخص کو نامعلوم مقام پر رکھنا جو ریاست پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہو۔


 *چوتھی ترمیم 1975* 

اقلیتوں کو پارلیمنٹ میں اضافی سیٹیں دی گئیں۔


 *پانچویں ترمیم 1976* 

ہائی کورٹ کا اختیار_سماعت وسیع کیا گیا


 *چھٹی ترمیم 1976* 

ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی مدت بالترتیب 62 اور 65 سال کی گئ۔


 *ساتویں ترمیم 1977* 

وزیر اعظم کو یہ پاور دی گئ کہ وہ کسی بھی وقت پاکستان کی عوام سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکتا ہے۔


 *آٹھویں ترمیم 1985* 

پارلیمانی نظام سے نیم صدارتی نظام متعارف کروایا گیا اور صدر کو اضافی پاورز دی گئیں۔


 *نویں ترمیم 1985* 

شریعہ لاء کو لاء آف دی لینڈ کا درجہ دیا گیا۔


 *دسویں ترمیم 1987* 

پارلیمنٹ کے اجلاس کا دورانیہ مقرر کیا گیا کہ دو اجلاس کا درمیانی وقفہ 130 دن سے نہیں بڑھے گا


 *گیارھویں ترمیم 1989* 

دونوں اسمبلیوں میں سیٹوں کی Revision کی گئ۔


 *بارھویں ترمیم 1991* 

سنگین جرائم کے تیز ترین ٹرائل کے لئے خصوصی عدالتیں عرصہ 3 سال کے لئے قائم کی گئیں


 *تیرھویں ترمیم 1997* 

صدر کی نیشنل اسمبلی تحلیل کرنے اور وزیر اعظم ہٹانے کی پاورز کو ختم کیا گیا۔


 *چودھویں ترمیم 1997* 

ممبران پارلیمنٹ میں Defect پائے جانے کی صورت میں ان کو عہدوں سے ہٹانے کا قانون وضح کیا گیا۔


 *پندرھویں ترمیم 1998* 

شریعہ لاء کو لاگو کرنے کے بل کو پاس نا کیا گیا۔


 *سولہویں ترمیم 1999* 

کوٹہ سسٹم کی مدت 20 سے بڑھا کر 40 سال کی گئ


 *سترھویں ترمیم 2003* 

صدر کی پاورز میں اضافہ کیا گیا


 *اٹھارویں ترمیم 2010* 

اس ترمیم میں NWFP کا نام تبدیل کیا گیا اور آرٹیکل 6 متعارف کروایا گیا،اور اس کے علاوہ صدر کی نیشنل اسمبلی تحلیل کرنے کی پاور کو ختم کیا گیا۔


 *انیسویں ترمیم 2010* 

اسلام آباد ہائی کورٹ قائم کی گئ،اور سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے حوالے سے قانون وضح کیا گیا۔


 *بیسویں ترمیم 2012* 

صاف شفاف انتخابات کے لئے چیف الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تبدیل کیا گیا۔


 *اکیسویں ترمیم 2015* 

سانحہ APSکے بعد ملٹری کورٹس متعارف کروائی گئیں۔


 *بائیسویں ترمیم 2016* 

چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اہلیت کا دائرہ کار تبدیل کیا گیا کہ بیورو کریٹس اور ٹیکنو کریٹس بھی ممبر الیکشن کمیشن آف پاکستان بن سکیں گے۔


 *تئیسویں ترمیم 2017* 

سال 2015 میں قومی اسمبلی نے اکیسویں ترمیم میں 2 سال کے لئے ملٹری کورٹس قائم کیں۔ یہ دوسال کا دورانیہ 6 جنوری 2017 کو ختم ہو گیا،اس تئیسویں ترمیم میں ملٹری کورٹس کے دورانیے کو مزید 2 سال کے لئے 6 جنوری 2019 تک بڑھایا گیا۔


 *چوبیسویں ترمیم 2017* 

مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کو دوبارہ تشکیل دیا گیا۔


 *پچیسویں ترمیم 2018* 

فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ملانے کے لئے صدر نے   2018 کو دستخط کیئے.        

             (( thank you )) 


Comments